14 اپریل 2012 - 19:30

پاکستان کی فوج نے اور پولیس نے بنوں جیل فرار ہونے والے تقریبا چار سو قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات تین سو پانچ سو کی تعداد میں دہشت گرد نے بنوں سینٹرل جیل پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس موقع پر سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں سے ان کی جھڑپ ہوئی لیکن وہ چھ بیرکوں سے تقریبا چار سو قیدیوں کو چھڑا کر اپنے ساتھ لے گئے جن میں خطرناک دہشت گرد، غیرملکی شدت پسند اور سنگین مقدمات میں ملوث خطرناک قیدی بھی شامل ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق فرار ہونے والوں میں پرویز مشرف حملہ کیس میں ملوث مبینہ دہشت گرد عدنان رشید بھی شامل ہے۔ فرار ہونے والے دس سے زائد قیدیوں کو دوبارہ کر لیا گيا ہے جبکہ باقی مفرور قیدیوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو جیل سے چھڑا لیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بنوں سینٹرل جیل میں تقریبا ایک ہزار قیدی ہیں جن میں سے چار سو قیدیوں کو طالبان نے چھڑا لیا ہے۔

پاکستان میں سنجیدہ حلقوں اور سول سوسائٹی نے اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کالعدم تحریک طالبان کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور حکومتی اداروں کی اس سے لاتعلقی اور بعض داخلی طاقتوں کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کو ملکی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ .......

/169